فرقہ واریت اور اس کا حل
علامہ اقبال فرماتے ہیں فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں دعوت اسلامی کے ممبر کے گھر پیدا ھونے والا سمجھتا ہے کہ وہ کنفرم جنتی ہے۔ حوریں اس کا انتظار کررہی ہیں۔ پیر صاحب ھاتھ پکڑیں گے اور ڈائریکٹ جنت جماعت اسلامی والا سمجھتا ہے کہ جنت کا ڈاریکٹ ٹکٹ کاٹ لیا۔ دیوبندی سمجھتے ہیں وہ شرک سے بہت دور اور کنفرم جنتی۔ جبکہ شیعہ فرقے والا بھی یہ سمجھتا ہے کہ جنت میں ضرور جائے گا۔ اور سادہ مسلمانوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ ھم تو تو ویسے ہی مسلمان ہیں جن نے جانا ہی جنت میں ہے اور اگر جہنم میں گئے بھی تو کچھ وقت کے بعد نکال لیا جائے گا۔ جبکہ قرآن میں سورت آل عمران کی آیت نمبر 24 میں یہود کے بارے میں فرماتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ھمیں کچھ دن ہی آگ جلائے گی۔ ان کی من گھڑت باتوں نے ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں رکھا ہے۔ فرقہ واریت میں ڈوبے بھولے بھالے لوگوں کا المیہ ہے کہ وہ کسی گھر میں پیدا ھونے کی وجہ سے اس فرقے کو مکمل ٹھیک سمجھتے ہیں اور قرآن پڑھنے کے بعد تفسیر آپنے فرقے کے عالم کی پڑھتے ہیں۔ ج...